*امامِ ؐ وقت سے باتیں کیِا کرو!!*
🌸🌸🌸🌸🌸🌸
ہر روز گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر تھوڑی دیر کیلئے اپنے امامِ زمانہ ؐ سے درد دل کیا کرو!
ایک شیعہ کیلئے یہ بات اچھی نہیں ھے کہ اس کا دن شَب میں ڈھل جائے اور شَب دِن کے جالے میں بدل جائے اور اسے اپنے وقت کے امام ؐ کی تھوڑی دیر کیلئے بھی یاد نہ آئے!
تھوڑی دیر کیلئے اپنے آپ کو پابند کرو کہ تنہائی میں بیٹھ کر اُن سے باتیں کرو ،
خواہ اِس فعل کیلئے تمھارے دل کی توجہ نہ بھی ہو کہ میں مفاتیح الجنان سے کوئی دعا یا امام ؐ کی کوئی زیارت پڑھوں!
بس تم بیٹھ کر تھوڑی دیر کیلئے دل کی باتیں کرو یا بقول معروف سلام علیک کرو!
’’ تمہارے منہ(دھان) اور کان کے درمیان ایک بالشت سے بھی کم فاصلہ ھے، وہ بات جو تمھارے منہ سے نکل کر تمھارے کان تک پہنچے امام زمانہ ؐ وہ بات سُن لیتے ہیں!‘‘
وہ تم سے بہت نزدیک ہیں، اُنہی سے دردِ دل کیا کرو ،
اُنہی سے باتیں کرو اور اپنا رابطہ برقرار کرو!
امام علی نقی الھادی ؐ کے زمانے میں ایک بہت دُور کے شہر سے ایک چاھنے والے نے امام ؐ کو ایک خظ لکھا:
مولا ؐ میں آپ سے بہت دُور رھتا ھوں۔ مجھے کبھی کبھی حاجت ہوتی ھے اور آپ سے ملنا چاھتا ھوں اور میری مشکلات ہیں تو بتائیے میں اُس وقت کیا کروں؟!
امام علی النقی ؐ نے اُسے جواب میں لکھا:
«إِنْ كَانَتْ لَكَ حَاجَةٌ فَحَرِّكْ شَفَتَيْك»
’’ جب تمہیں کوئی حاجت درپیش ھو تو اپنے لبوں کو حرکت دُو اور ھم سے باتیں کرو
(ھم تم سے دور نہیں ہیں اور تمھاری باتیں سننے پر قادر ہیں!)
(بحارالانوار؛جلد53،صفحہ306)
حوالہ: منتظران مصلح
*#اللهم-عجل-لولیک-الفرج.*
Comments